Shan Misbahi

Add To collaction

31-Jan-2022 لیکھنی کی کہانی عشق

غزل
موضوع عشق

نور کو نور سے ہوا ہے عشق
یعنی کس درجہ پارسا ہے عشق

آنکھ جب اپنی کھولتا ہے عشق
حسن کی سمت دیکھتا ہے عشق

اُس کی عادت ہے مسکرانے کی
 اور ناداں سمجھ رہا ہے عشق

آج کے دور کا یہ عالم ہے
دربدر دیکھو گھومتا ہے عشق

اس کو کوئی نہیں سمجھ پایا
گویا سمجھو کی دلرُبا ہے عشق

شاہ زادہ جو اک ہوا پاگل
تب یہ سمجھے کہ کیا بلا ہے عشق

عین سے شین اور قاف ملے
تب کہیں جا کے یہ بنا ہے عشق

کیوں نہ ائیں گے تتلیاں اُڑ کر
میں نے پھولوں پہ لکھ دیا ہے عشق

اپنے اجداد که گئے ہم سے
تم کو دنیا میں باٹنا ہے عشق

جھوٹ اس میں کبھی نہیں چھپتا
ایک شفّاف آئینہ ہے عشق

ہم نے دیکھا ہے بارہا لوگو
صرف دولت سے ہارتا ہے عشق

پھر کسی کی نہیں اُسے حاجت
جس کو مولا سے ہو گیا ہے عشق

اسکو دنیا نے تب سے جانا ہے
*شان* نے جب سے کر لیا ہے عشق

*شان مصباحی*

   14
7 Comments

fiza Tanvi

06-Feb-2022 12:20 PM

Wah shsb bhai

Reply

Anjana

03-Feb-2022 09:46 AM

Bahut khoob

Reply